Facebook Twitter Google RSS
Showing posts with label Health. Show all posts
Showing posts with label Health. Show all posts

Saturday, January 6, 2018

ملک بھر میں دودھ کی پیداوار کے لیے بھینسوں کو ٹیکے لگانے پر پابندی عائد


کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں بعد ہوگی۔ فوٹو: فائل

 لاہور: سپریم کورٹ نے ملک بھر میں دودھ کی پیداوارکے لیے بھینسوں کو ٹیکے لگانے پر پابندی عائد کردی۔
چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے لاہور رجسٹری میں ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں میں استعمال ہونے والے کیمیکل کی درآمد پر پابندی کا حکم امتناعی خارج کرتے ہوئے بھینسوں کو ٹیکے لگانے پر پابندی عائد کردی۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان میں دودھ کی پیداواربڑھانے کے لیے بھینسوں کو لگائے جانے والے انجیکشن سے کینسر جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں، بچے اور بڑے سبھی کینسر زدہ دودھ پینے پر مجبور ہیں، ہماری بچیاں وقت سے پہلے ہی بوڑھی ہورہی ہیں۔
چیف جسٹس نے دودھ بیچنے والی کمپنیوں سے استفسار کیا کہ پاکستان میں ڈبے کے تمام دودھ جعلی اورمضرِصحت ہیں، ڈبہ پیک دودھ میں فارمولین کیمیکل موجود ہے جو کہ انسانی صحت کےلیے انتہائی خطرناک ہے، بتائیں کیا ٹی وائٹنردودھ کا متبادل ہے، جس پر ڈبہ پیک دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے وکیل نے جواب دیا کہ ہم نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ ٹی وائٹنر دودھ کا متبادل ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ دودھ کے ڈبے کی تبدیلی کتنے عرصے میں کردیں گے، ڈبہ پیک دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے وکیل نے جواب میں چارماہ کا وقت مانگا تو چیف جسٹس نے کہا کہ 4 ماہ کا عرصہ بہت زیادہ ہے ایک ماہ میں ڈبہ تبدیل کریں اوراس لکھیں کہ یہ دودھ نہیں ہے، جتنا پرانا اسٹاک ہے اسے ضائع کردیں۔ کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں بعد ہوگی۔

Thursday, January 4, 2018

پانچ ایسی غذائیں جن میں دودھ سے زیادہ کیلشئیم پایا جاتا ہے


کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ غذائیں ایسی بھی ہیں جن میں دودھ سے زیادہ کیلشئیم پایا جاتا ہے۔
لاہور: (ویب ڈیسک) کیلشئیم انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ کیلشئیم سے نہ صرف ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں بلکہ دل اور دل کی شریانیں بھی بہتر کام کرتی ہیں۔ کچھ تحقیقوں میں یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کیلشئیم اور وٹامن ڈی کینسر، ذیابطیس اور ہائی بلڈ پریشر کے خلاف مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ کیلشئیم کا سب سے بڑا ذریعہ دودھ کو سمجھا جاتا ہے۔ سو گرام دودھ میں 125 ملی گرام کیلشئیم پایا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ غذائیں ایسی بھی ہیں جن میں دودھ سے زیادہ کیلشئیم پایا جاتا ہے۔
ان پانچ غذائوں میں دودھ سے زیادہ کیلشئیم پایا جاتا ہے۔
چیڈر چیز
چیڈر چیز کھانے میں جتنی مزیدار ہے اتنی ہی یہ صحت کے لیے بھی مفید ہے۔ اس میں پروٹین، کیلشئیم، وٹامن ڈی اور پوٹاشئیم کے علاوہ بہت سے دیگر مفید اجزاء بھی پائے جاتے ہیں۔ سو گرام چیڈر چیز میں 721 ملی گرام کیلشیم پایا جاتا ہے۔
دہی
کیلشیم سے بھرپور ، پروٹین اور پروبائیوٹک سے لیس دہی دودھ سے بنے والی ایک بہترین غذا ہے ۔ اسے ڈیری پراڈکٹس کا سپر ہیرو بھی کہا جاتا ہے ۔ دہی نظامِ انہظام، ہڈیوں، دانتوں اور دل کے لیے بہت مفید ہے۔ یوں تو دہی دودھ سے ہی بنتی ہے لیکن اس میں کیلشئیم کی مقدار دودھ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ سو گرام دہی میں 100-150 ملی گرام کیشیم موجود ہوتا ہے۔
تل
تل ایسی غذا ہے جو گوشت جیسے خواص رکھتی ہے۔ تل طاقت حاصل کرنے اور عمر بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جو لوگ گوشت نہیں کھاتے انہیں تلوں کا استعمال ضرور کرنا چاہیے۔ تل میں میںلیسی تھین کی وافر مقدار موجود ہے۔ لیسی تھین ایک فاسفورس آمیز چکنائی ہے جو بافتوں اور پٹھوں کی صحت کیلئے نہایت ضروری ہے۔ سو گرام تل میں 975 ملی گرام کیلشیم موجود ہوتا ہے۔
پالک
پالک قدرت کا ایک ایسا تحفہ ہے جس میں بے شمار غذائی اجزاء موجود ہیں۔ اس میں وٹامن کے، وٹامن اے، میگنیشیم، فولیٹ، مینگینز، آہن کیلشیم، پوٹاشیم، وٹامن سی، وٹامن بی 2 اور وٹامن بی موجود ہے۔اس کے علاوہ یہ سبزی پروٹین، فاسفورس، وٹامن ای، جست، ریشہ اور تانبا کا ایک ذریعہ بھی ہے۔اسے سلاد میں کچا بھی کھایا جاسکتا ہے۔ سو کلوگرام کچی پالک میں 99 ملی گرام کیلشیم پایا جاتا ہے۔
ٹوفو
ٹوفو میں امائینو ایسڈ، آئرن، کیلشئیم اور دیگر اہم اجزاء کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ٹوفو سویا ملک سے بنایا جاتا ہے۔ سو گرام ٹوفو میں 350 ملی گرام کیلشئیم پایا جاتا ہے۔
بشکریہ دنیا نیوز


ملی جلی جلد کی حفاظت کیسے ؟


روزمرہ زندگی میں معمولی سی احتیاط اور تدبیر سے آپ اپنی جلد کو مزید خوبصورت بنا سکتے ہیں
لاہور (روزنامہ دنیا ) ملی جلی جلد کی نگہداشت یقینا ایک مسئلہ ہے کیونکہ ایسی جلد میں خشک اورچکنی جلد کے بدترین خدوخال پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ متوازن لائحہ عمل اختیار کرنیکی کوشش کرنی چاہیے ۔تاکہ چکنائی بھی ختم ہو جائے اور خشک حصوں کی خشکی دور ہو جائے ۔یعنی چکنے حصے خشک ہو جائیں اور خشک حصے چکنے ہو جائیں۔ ایسی صورتحال میں دو طرح کی سکن کیئر روٹین اپنانا پڑتی ہے اور دو مختلف حصوں کے لیے دومختلف جلدوں کا طرزعمل اپنایا جاتا ہے۔ جب آپ دونوں اقسام کی خصوصیات سمجھ جائیں گی اور درست کاسمیٹکس کا انتخاب کرنا سیکھ لیں گی تو ملی جلی جلد کی کلینزنگ انتہائی آسان ہو جائے گی۔
ملی جلی جلد کی دیکھ بھال کے لیے بھی سب سے پہلے کلینزنگ کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔ خشک حصے ری ہائیڈرینٹ جیل سے گیلی روئی کے ساتھ دھوئیں۔ جلد کے چکنے حصوں پر میڈیکیٹڈ سوپ لگائیں اورپھر پانی سے دھوئیں۔ ان حصوں پر بیوٹی گرین (بیسن، بھوسی یا مسور کی دال وغیرہ) اور سکن ٹانک کا مسکچر ملیں جن پر بلیک ہیڈز پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔ کچھ دیر کے بعد پانی سے دھو ڈالیں اور پھر پورے چہرے کو سکن ٹانک سے ٹون کریں۔ سکن ٹانک روئی کی گدی سے لگائیں پھر جلد کو تیزی سے تھپتھپائیں۔ یہ کلینزنگ روٹین صبح اور پھر رات کو سونے سے پہلے اپنائیں۔ رات کے وقت اپنے معمول کی نائٹ کیئر روٹین میں خشک حصوں پر نریشنگ کریم سے ہلکا سا مساج بھی شامل کریں۔ کوئی ایسی پراڈکٹ منتخب کریں جو زیادہ چکنی نہ ہو۔ نائٹ کیئر روٹین میں گردن کی کلینزنگ اور مساج بھی شامل کریں۔ بیس منٹ بعد گیلی روئی سے کریم صاف کر دیں۔
آنکھوں کے اردگرد ایلمنڈ انڈر آئی کریم لگائیں اور دس منٹ کے بعد گیلی روئی سے پونچھ دیں۔ اگر جلد کے چکنے حصوں پر دھبے یا کیل ہوں تو اینٹی پمپل لوشن (Anti Pimple Lotion) لگائیں اور اسے رات بھر لگا رہنے دیں۔ اگر ایکنی کے داغ رہ گئے ہوں تو داغوں پر Anti Blemish Ointment ملیں اور رات بھر لگا رہنے دیں۔جلد کی دونوں اقسام کے لیے چند کاسمیٹکس ایڈز بھی درکار ہوتی ہیں۔ ایک موزوں سن سکرین، جلد کو ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب بھی جلد خشک ہوتی ہوئی محسوس ہو تو کوئی ہلکا پھلکا لیکوئیڈمائسچرائزر استعمال کریں۔ عرق گلاب پر مشتمل کوئی سکن ٹانک زیادہ مفید رہتا ہے۔ سکن کیئر روٹین، فیس ماسک کے بغیر ناممکن رہتی ہے۔ کسی بھی ماسک کا انتخاب ضرورت کے مطابق کریں۔ اگر ایکنی یا پھنسیاں اور کیل ہوں تو میڈیکیٹڈ ماسک ہی مناسب رہتا ہے۔ 
بشکریہ دنیا نیوز


Sunday, December 24, 2017

تنہائی آپ کو شوگر کا مریض بناسکتی ہے

تنہائی آپ کو شوگر کا مریض بناسکتی ہے


اگر آپ اکیلے پن کا شکار ہیں تو شوگر (ٹائپ 2 ذیابیطس) کا شکار بھی ہوسکتے ہیں،تحقیق، (فوٹو: انٹرنیٹ)

لندن: ہالینڈ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ وہ لوگ جو تنہائی پسند ہوتے ہیں یا زیادہ تر اکیلے رہتے ہیں، انہیں ٹائپ 2 ذیابیطس (شوگر) میں مبتلا ہونے کا خطرہ دوسرے افراد کی بہ نسبت کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
قبل ازیں مختلف طبی تحقیقات میں اکیلے پن اور تنہائی پسندی کے منفی نفسیاتی اثرات سامنے آچکے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ ذیابیطس یعنی شوگر کا اس سماجی کیفیت سے واضح تعلق سامنے آیا ہے۔
ہالینڈ کی ماسٹرخ یونیورسٹی میں اسٹیفانی برنکہیوز اور ان کے ساتھیوں نے ماضی میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے بارے میں کیے گئے مختلف طبی مطالعات کا ازسر نو تجزیہ کیا جن میں مجموعی طور پر 2861 افراد شامل تھے جن کی عمریں 40 سے 75 سال کے درمیان تھیں، ان میں سے 33 فیصد افراد کو ٹائپ 2 ذیابیطس کی بیماری لاحق تھی۔
جب مختلف سوالناموں کے ذریعے ان تمام افراد کے طرزِ حیات (لائف اسٹائل) کا جائزہ لیا گیا اور ان کے سماجی رابطوں بشمول حلقہ احباب، میل جول، عزیز رشتہ داروں اور اسی نوعیت کے دیگر مراسم کو کھنگالا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ جن کے دوستوں کی تعداد کم تھی اور جو زیادہ میل ملاپ کے مقابلے میں اکثر اکیلے رہتے تھے، ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی شرح بھی دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ تھی۔
ریسرچ جرنل ’’بی ایم سی پبلک ہیلتھ‘‘ میں شائع شدہ اس تحقیق کے مطابق تنہائی پسند یا اکیلے پن کے احساس میں مبتلا مردوں کی تقریباً 29 فیصد تعداد ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار دیکھی گئی جبکہ خواتین میں یہی شرح اس سے کہیں زیادہ یعنی 49 فیصد پائی گئی۔ اسٹیفانی کہتی ہیں کہ خواتین جذباتی اور سماجی تعلقات وغیرہ میں مردوں کی بہ نسبت زیادہ حساس ہوتی ہیں اور وہ بہت جلد احساسِ تنہائی کا شکار ہوجاتی ہیں، شاید اسی لیے وہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں بھی زیادہ مبتلا ہوجاتی ہیں۔
واضح رہے کہ بعض نفسیاتی کیفیات کا اثر اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ جسمانی تکالیف اور بیماریوں کی وجہ بن جاتا ہے جس کی سب سے عام صورت ہاضمے کی خرابی یا غیر متوازن بھوک کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ احساسِ تنہائی کی صورت میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا حملہ اسی کی ایک تازہ مثال ہے۔

روزانہ انڈا کھانے والے بچوں کی دماغی نشوونما میں اضافہ

روزانہ انڈا کھانے والے بچوں کی دماغی نشوونما میں اضافہ


چھوٹے بچوں کو انڈا کھلایا جائے تو ان کے دماغ پر انتہائی مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل

 واشنگٹن: اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ دماغی صلاحیت میں آگے ہو تو اسے کم ازکم 6 ماہ تک روزانہ ایک انڈا ضرور کھلائیں کیوں کہ انڈے میں وہ تمام ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں جو بچے کے دماغ کی نشوونما بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اس بات کا انکشاف واشنگٹن یونیورسٹی میں واقع براؤن اسکول کی ماہر لورا لینوٹی نے کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ بچوں کو روزانہ ایک انڈا کھلایا جائے تو اس سے کولائن اور ڈی ایچ اے جیسے اہم غذائی اجزا کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور یوں ان کے دماغ کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے۔
قبل ازیں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اگر بچوں کو روزانہ ایک انڈا کھلایا جائے تو اس سے ان کے پستہ قد ہونے کا رحجان کم ہوجاتا ہے۔ لورا لینوٹی نے بتایا  کہ ’انڈے میں فیٹی ایسڈز، پروٹین، کولائن، وٹامن اے اور بی 12، سیلینیئم اور دیگر اہم اجزا ہوتے ہیں جو بچے کے دماغ پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں‘۔
لورا کا کہنا ہے کہ ایکواڈور میں ایسے 163 شیرخوار بچوں کا جائزہ لیا گیا جن کی عمریں 6 سے 9 ماہ کے درمیان تھیں۔ ان میں سے 80 بچوں کو چھ ماہ تک انڈا کھلایا گیا جبکہ دوسرے بچوں کو کچھ نہیں دیا گیا اس کے بعد وقفے وقفے سے ان کے خون کے ٹیسٹ لیے گئے اور ان میں وٹامن اور دیگر ضروری اجزا کا جائزہ لیا گیا۔
ان میں سے جن بچوں نے باقاعدگی سے انڈا کھایا ان کے خون میں ڈی ایچ اے اور کولائن کی مقدار انڈا نہ کھانے والے بچوں سے کہیں زیادہ تھی۔ یہ دونوں اجزا بچوں کی دماغی صحت اور دماغی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں، اس تحقیق کے بعد لورا نے کہا کہ قدرت نے انڈے کو کچھ اس طرح بنایا ہےکہ اس میں چھوٹے بچوں کی دماغی ترقی کے تمام اجزا موجود ہیں۔

ٹی بی کی شناخت دنوں میں نہیں گھنٹوں میں ممکن

ٹی بی کی شناخت دنوں میں نہیں گھنٹوں میں ممکن


تپ دق کے مریضوں کے پیشاب میں خاص شکریات کی معمولی مقدار پائی جاتی ہے اور ان کی شناخت کرنے والا ایک نیا ٹیسٹ صرف 12 گھنٹوں میں اس مرض کی شناخت کرسکتا ہے۔ فوٹو: نیوسائنٹسٹ

ورجینیا: ہم جانتے ہیں کہ ٹی بی کے ٹیسٹ اب بھی بہت وقت لیتے ہیں لیکن امریکی ماہرین نے پیشاب کے ذریعے ٹی بی شناخت کرنے والا ایک ٹیسٹ وضع کرلیا ہے جس سے اس جان لیوا مرض کی فوری شناخت ممکن ہے۔
ٹی بی اب تک دنیا کا ایک تکلیف دہ اور جان لیوا مرض بنا ہوا ہے جس کے زیادہ ترشکار غریب ممالک کے افراد ہورہے ہیں۔ دوسری جانب تپ دق کے سامنے ہماری دوائیوں کے ہتھیار بے کار ہوتے جارہے ہیں کیونکہ اس کے جراثیم بہت چالاکی سے خود کو بدل کر طاقتور ترین ادویہ کو بھی بے اثر بنارہے ہیں۔
سال 2016 میں دنیا بھر میں ٹی بی کے ایک کروڑ سے زائد مریض نوٹ کیے گئے جبکہ ہر سال 17 لاکھ افراد اس موذی مرض کے ہاتھوں جان سے جارہے ہیں۔ 40 فیصد معاملات میں ٹی بی کا انفیکشن اس وقت سامنے نہیں آتا جب تک اس کی ظاہری علامات نمودار نہیں ہوجاتیں۔
اس وقت ٹی بی معلوم کرنے کا ایک طریقہ جلد کا ٹیسٹ ہوتا ہے یا پھر ممکنہ مریض کا بلغم لے کر اس میں بیکٹیریا دیکھے جاتے ہیں۔ ٹی بی کے ان دونوں طریقوں میں کئی دن لگتے ہیں جس کےلیے تربیت یافتہ خرد حیاتیات داں (مائیکرو بیالوجسٹ) کی ضرورت ہوتی ہے۔
امریکی ریاست ورجینیا میں جارج میسن یونیورسٹی کی پروفیسر ایلی ساندرا لیوشینی اور ان کے ساتھیوں نے پیشاب کے ذریعے ٹی بی شناخت کرنے کا ایسا ٹیسٹ وضع کیا ہے جو صرف 12 گھنٹے میں نتائج دیتا ہے۔ یہ پیشاب میں موجود وہ شکریات (شوگرز) معلوم کرتا ہے جو ٹی بی کے بیکٹیریا سے جڑتی ہیں اور پیشاب میں ان کی انتہائی معمولی مقدار خارج ہوتی رہتی ہے۔
اس ٹیسٹ کےلیے چھوٹے چھوٹے سالماتی پنجرے (مالیکیولر کیجز) بنائے گئے ہیں جن میں خاص رنگ (ڈائی) استعمال کیا گیا ہے۔ یہ دونوں مل کر شکر کے سالمات کو جکڑ لیتے ہیں اور یوں ٹی بی کا پتا چل جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ اتنا حساس ہے کہ پیشاب میں موجود ٹی بی سے وابستہ شکریات کی معمولی سی مقدار میں موجودگی کا انکشاف بھی کرتا ہے، اس طرح یہ پیشاب کے ذریعے ٹی بی کے بقیہ ٹیسٹ سے 1000 گنا بہتر ہے۔
اگلے مرحلے میں اس ٹیسٹ کو ٹی بی کے 48 مریضوں پر آزمایا گیا تو اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے۔ اب ماہرین اس ٹیسٹ کو آسان اور کمرشل بنانے پر کام کررہے ہیں۔

© 2014 101 Ways For Happy Life. WP WELL WISHES converted by Bloggertheme9. Powered by Blogger.