Facebook Twitter Google RSS
Showing posts with label Information. Show all posts
Showing posts with label Information. Show all posts

Sunday, January 14, 2018

'پانچ ممالک کے خوبصورت مقامات پاکستانیوں کو ویزے کی ضرورت نہیں'


لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان عوام کے لئے خوشخبری، اب پاکستانی دنیا کے 5 ممالک کے خوبصورت مقامات پر بغیر ویزے جاسکیں گے۔ بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پانچ ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کی رعایت حاصل کرنے والے ممالک میں پاکستان کے علاوہ فلپائن اور بھارت بھی شامل ہیں۔
پاکستان، فلپائن اور بھارت کے لیے پانچ ایسے ممالک نے فری ویزہ سروس کا اعلان کیا ہے جو دلفریب قدرتی مناظر اور خوبصورت مقامات سے مالا مال ہیں، ان ممالک میں بولیویا، وآدھو جزیرہ مالدیپ، لاؤس، ساموا اور انڈونیشیا کے مخصوص مقامات شامل ہیں۔
بولیویا
بولیویا میں واقع ایک لگژری ہوٹل میں ایسا گھر تعمیر کیا گیا ہے جو مکمل طور پر نمک پر مشتمل ہے، اس فلیٹ کی چھت، دیواریں حتی کہ فرش تک نمک سے تعمیر کی گئی ہے جو سورج کی روشنی میں چاندنی کی مانند چمکتا ہے اور اس دلفریب جگہ کو دیکھنے کے لیے دور دور سے سیاح جنوبی امریکا کے اس شہر بولیویا کا رخ کرتے ہیں جہاں اب پاکستانی بھی بغیر ویزے کے سفر کر سکیں گے۔
مالدیپ
مالدیپ میں واقع جزیرے وآدھو کا خوبصورت ساحل اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور دنیا بھر سے سیاح اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تعطیلات منانے اس جزیرے کا رخ کرتے ہیں جہاں دلفریب قدرتی مناظر کو اپنا منتظر پاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے اس جزیرے میں سیرو تفریح کی غرض سے آنے والے پاکستانیوں کو ویزہ کی ضرورت نہیں ہو گی۔
لاؤس
لاؤس جنوبی مشرقی ایشیا میں واقع ایک زمین بند ملک ہے، اس کی سرحدیں شمال مغرب میں برما اور چین سے، جنوب میں کمبوڈیا، مشرق میں ویت نام اور مغرب میں تھائی لینڈ کے ساحلی علاقوں سے ملتی ہیں اس تاریخی اور خوبصورت ملک کی سیر بھی بغیر ویزے کے ممکن ہے۔ لاؤس میں واقع ژینگ خاؤنگ نامی جگہ پر ہزاروں سال سے موجود ایک تاریخی مقام ہے جہاں جار جیسی شبیہ رکھنے والے سخت پتھر موجود ہیں جنہیں درختوں نے گھیر رکھا ہے اور اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے یہ چٹانی علاقہ برصغیر کے دور میں انڈیا اور چائنا جنگ کے دوران بمباری کے نتیجے میں تباہ ہوا اور چٹانوں کی شکل یکسر تبدیل ہو گئی۔
ساموا
بحرالکاہل کے جنوبی کنارے پر آباد آزاد سلطنت ساموا کے ساحلی علاقے میں واقع ایک خندق نما گڑھے میں سمندری پانی اس طرح جمع ہے جیسے کوئی سوئمنگ پول ہو، یہاں صاف و شفاف اور معتدل درجہ حرارت والا پانی ہمیشہ موجود رہتا ہے اور محکمہ سیاحت نے درختوں سے ڈھکے اس خوبصورت جگہ تک رسائی کے لیے خوبصورت سیڑھی بھی نصب کر رکھی ہے۔ بحرالکاہل سے متصل اس ملک میں پاکستانی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بغیر ویزے کے آ سکتے ہیں اور یہاں کے دلفریب مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
اندونیشیا
ایک ٹھنڈا آتش فشاں ہے جو انڈونیشیا کے دور دراز جزیرے پر واقع ہے گو آتش فشاں آگ و دھواں اور تپتے لاوے کا نام ہے لیکن کیلی موتو کی خاص بات اس کا نہایت خوبصورت ہونا ہے ، بارش کے بعد یہ آتش فشاں پہاڑوں میں گھری ایک خوبصورت جھیل کا سا منظر پیش کرتی ہے جسے دیکھنے دنیا بھر سے سیاح کھینچے چلے آتے ہیں۔ اس جگہ کی انفرادیت اس کہ ہیئت ہے جو اسے آتش فشاں ہونے کے باجود ایک خوبصورت جھیل کی طرح پیش کرتی ہے تاہم سائنس دان متنبہ کرتے ہیں کہ آکسیڈیشن اور ریڈیشن کے باعث لاوا بننے کا عمل کبھی بھی شروع ہوسکتا ہے، اس شاہکار کو دیکھنے کے لیے پاکستانیوں کو کسی ویزے کی حاجت نہیں رہے گی۔


بشکریہ دنیا

Thursday, January 4, 2018

ارتھ: بُھلائے جانے کے خلاف ایک چیخ


ارمغان شاہد، جن کو پاکستانی عموماً شان شاہد کے نام سے جانتے ہیں، پاکستانی فلم کے سب سے بڑے، سب سے پرانے اور کچھ لوگوں کے مطابق واحد سُپرسٹار ہیں۔ 25، 27 سال فلموں میں کام کرنے کے باوجود اب بھی وہ لیڈ اداکار ہی سمجھے جاتے ہیں، اور بڑے بجٹ کی فلموں کی کاسٹنگ کے وقت اُن کا نام سرِفہرست ہوتا ہے۔
لیکن اُن کی شخصیت میں کچھ تضادات نمایاں ہیں۔ مثلاً نوّے کی دہائی میں جہاں سلطان راہی کے قتل کے بعد انھوں نے پنجابی فلموں کو اپنے کاندھوں سے سہارا دیا اور پاکستانی فلمی صنعت کو چلائے رکھا، وہاں اُن کی فلمسازوں کو تنگ کرنے کی کہانیاں بھی بہت مشہور تھیں۔ اُن کے نقّادوں کا کہنا ہے کہ اُن کے رویّے کی وجہ سے، جس میں فلموں کو پورا وقت نہ دینا اور تین تین فلموں میں بیک وقت کام کرنا شامل تھا، پاکستانی فلم بدحال بھی ہوئی۔
پھر اُن کے تجربے اور اداکاری میں مہارت کو جہاں سب مانتے ہیں، وہاں اُن پر یہ الزام بھی لگتا ہے کہ وہ اپنے مقابل اداکاروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے اور اپنے رول کی اہمیت اور شاید ایِگو کی خاطر اُن کے رول کم بھی کروا دیتے تھے۔ اس کے علاوہ شان جہاں عرصے سے پاکستانی اداکاروں کا انڈین فلموں میں کام کرنے اور اُن کی پاکستان میں نمائش کے خلاف آواز اُٹھاتے رہے ہیں، وہاں بطور ہدایتکار اپنی دوسری فلم کے لیے اُنھوں نے خود ایک مشہور انڈین فلم کو ریمیک کرنے کا سوچا۔
اِس حوالے سے شان کو میڈیا میں خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ شان نے نہ صرف ایک انڈین فلم کی کہانی دوبارہ بنائی بلکہ اس کو تبدیل بھی کر دیا اور ایسا تبدیل کیا کہ جہاں اوریجنل فلم کا محور ایک عورت کی کہانی تھی، وہاں شان کی فلم کا محور خود شان بن جاتے ہیں۔
سچ پوچھیں تو میرا اِن دونوں باتوں سے کوئی زیادہ اختلاف نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ شان نے مہیش بھٹ کی 1982 کی فلم ’ارتھ‘ کو باقاعدہ مہیش بھٹ کی رضامندی سے ریمیک کیا ہے۔ اور کہانیوں کی، کم از کم میرے خیال میں، کوئی نیشنیلٹی نہیں ہوتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ بطور لکھاری اور ہدایتکار شان کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ کہانی میں ردّوبدل کریں۔ (ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں لکھنے والوں نے کسی مشہور کہانی کو نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔) اصل بات دیکھنے کی یہ ہے کہ کیا شان کی فلم ’ارتھ ـ دی ڈیسٹینیشن‘ اپنے تئیں کامیاب فلم ہے یا نہیں اور کیا شان اپنے مقصد کو حاصل کر پاتے ہیں یا نہیں۔
تصویر کے کاپی رائ
مہیش بھٹ کی ’ارتھ‘ ایک شادی شدہ عورت پوُجا (شبانہ اعظمی) کے گرد گھومتی ہے جس کا شوہر ایک دوسری عورت کویتا (سمیتا پاٹل) کے عشق میں مبتلا ہے۔ شروع شروع میں پوُجا اپنی شادی کو بچانے کی خاطر سمجھوتے کرتی ہے اور کویتا سے فریاد بھی کرتی ہے۔ لیکن جب وہ اپنے شوہر سے علیحدہ ہونے کی ٹھان لیتی ہے تو اُس کو اپنے اندر کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اور وہ زندگی اپنے اصولوں پر گزارنا شروع کردیتی ہے۔ آگے جا کر اُسے ایک اور مرد راج (راج کِرن) کا پیار بھی مل جاتا ہے لیکن پوُجا اُس کی شادی کی پیشکش ٹھُکرا دیتی ہے کیونکہ وہ اپنے اندر کی طاقت کے اُجاگر ہونے کے بعد صرف اپنے آپ پر بھروسہ کرنا چاہتی ہے۔
شان کی ’ارتھ‘ میں کہانی اس دوسرے مرد کے گرد گھومتی ہے (جو شان خود ہیں)۔ کسی زمانے میں مشہور موسیقار علی ایک مشکل طلاق کے بعد لندن سے پاکستان واپس آتا ہے تاکہ اپنا موسیقی کا کیریئر دوبارہ شروع کر سکے۔ لیکن اس کو سب بھول چُکے ہیں اور اب اُسے کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔ اِن بُرے حالات میں اُس کی ملاقات ہوتی ہے اپنی ’سب سے بڑی فین‘ عظمیٰ (عظمیٰ حسن) سے جو علی کو گانے لکھنے میں مدد کرنے لگتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ عظمیٰ کا اندر کا لکھاری بھی جاگ جاتا ہے اور وہ اپنی عرصے سے نامکمل کتاب بھی پوری کر لیتی ہے۔ عظمیٰ اصل میں اوریجنل ’ارتھ‘ کی پوُجا ہے۔ اس کا شوہر (محب مرزا) ایک دوسری عورت (حمائمہ ملک جو سمیتا پاٹل کی طرح ایک فلمسٹار کا رول کر رہی ہیں) کے ساتھ چکّر چلا رہا ہے۔ اور جب عظمیٰ کو اس بات کا پتہ چلتا ہے تو وہ اپنا سارا دُکھڑا علی کو سناتی ہے اور علی اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن دھیرے دھیرے دونوں، یعنی علی اور عظمیٰ، کی دوستی کا رشتہ پیار میں بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔
شان نے کہانی کو ایسے کیوں تبدیل کیا؟ اس کا ایک جواب تو ظاہر ہے: کیونکہ شان کی فلم میں سب سے بڑا سُپر سٹار شان ہی ہیں اور شان اپنے آپ کو چھوٹا سا یا بُرا رول نہیں دینا چاہتے (بُرے آدمی کا رول محب مرزا کے کھاتے میں جاتا ہے)۔ لیکن میرے خیال میں اس کا ایک دوسرا جواب بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ شان شاہد کی فلم ارمغان شاہد کے بارے میں بھی ہے۔
شان بیشک پاکستانی فلم کے سُپرسٹار ہیں لیکن وہ اب 50 سال کے لگ بھگ ہوگئے ہیں اور اُن کو بھی یہ معلوم ہے کہ وقت گزرتا جا رہا ہے اور وہ ہمیشہ لیڈ اداکار نہیں رہیں گے۔ نئے نئے لڑکے ہیرو کے طور پر ہر روز سامنے آرہے ہیں جن کو پزیرائی بھی مل رہی ہے۔ شان کی فلم ایک ایسے کردار کے بارے میں ہے جو دوبارہ شہرت کی اُن اونچائیوں کو چھوُنا چاہتا ہے جو کبھی اُس کی زندگی کا حصّہ تھیں۔ یہ فلم بھُلائے جانے کے خلاف ایک چیخ ہے۔ آپ چاہیں تو اس استعارے کو لاہور کی فلم انڈسٹری تک بھی پھیلا سکتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ شان نے اس فلم کو اپنے بارے میں بنا دیا ہے، اوریجنل ’ارتھ‘ کی کہانی اتنی جاندار ہے کہ شان کی فلم میں بھی وہ کہانی بالآخر اوپر آجاتی ہے۔ اس فلم کا سب سے پیچیدہ اور دلچسپ کردار عظمیٰ کا ہی ہے۔ عظمیٰ حسن کی کاسٹنگ جرات مندانہ ہے (عظمیٰ کی شکل ماڈل ٹائپ نہیں ہے بلکہ زیادہ گھریلو ہے) لیکن اُن کی پرفارمنس عمومی طور پر کسی انکشاف سے کم نہیں ہے۔ وہی اس فلم میں جان ڈالتی ہیں۔ حمائمہ دو تین مناظر میں قدرے اچھا پرفارم کرتیں ہیں لیکن عموماً اُن کا رول یکسانیت کا شکار لگتا ہے۔ محب مرزا اپنے محدود سے رول میں ٹھیک کام کرتے ہیں لیکن اُن کو بھی اظہار کا زیادہ موقع نہیں ملتا۔ شان خود بہت عمدہ پرفارم کرتے ہیں لیکن دیکھنے والے کو اس بات کا اندازہ رہتا ہے کہ کہانی اصل میں کہیں اور ہے۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ فلم بہت حد تک ’لو بجٹ‘ نظر آتی ہے۔ اس کی عکسبندی سے صاف ظاہر ہے کہ یا تو پیسوں کی کمی تھی یا پھر ہدایتکار شان بڑے سکیل پر کام کرنے میں پُراعتماد نہیں تھے۔ یہ بھی شان کے تضادات کا ایک پہلو ہے۔ شان کئی مرتبہ دوسرے فلمسازوں کی اس بات پر کھنچائی کر چُکے ہیں کہ اُن کی فلمیں ٹی وی ڈراموں کی طرح لگتی ہیں اور یہ کہ فلم اور ٹی وی ڈراموں میں واضح فرق ہوتا ہے۔ لیکن سوائے اس کے کہ اُن کی فلم کی موسیقی (جو کہ ساحر علی بگا نے کمپوز کی ہے) فلم میں جان ڈالتی ہے، اُن کی فلم کافی حد تک ٹی وی ڈرامہ ہی لگتی ہے۔ اس میں کوئ بڑے ایکشن سین نہیں ہیں اور بیشتر فلم بند کمروں میں انہی چار کرداروں کے گِرد گھومتی ہے جن کے کچھ مناظر کئی بار ریپیٹ ہوتے ہیں۔ فلم کی تدوین خاص طور پر کمزور ہے اور اس میں کئی نقائص واضح ہیں۔ اس کے علاوہ بےجا انگریزی کے مکالموں کا استعمال فلم کو عام فلم بین سے دور کر دیتا ہے۔
فلم کے آخری حصّے میں شان کہانی کو دوبارہ اپنے بارے میں بنانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اُس وقت تک عظمیٰ کی کہانی قدرے حاوی ہو چُکی ہوتی ہے۔ یہاں فلم غیر ضروری طور پر طویل لگنے لگتی ہے اور واضح لگتا ہے کہ کہانی جس رُخ پر چل پڑی تھی اس کو زبردستی شان کی خاطر پلٹا جارہا ہے۔ اداکار شان نہایت ہی تجربہ کار ہیں لیکن شاید ہدایتکار شان کو ابھی تجربے اور مہارت کی اس سطح پر پہنچنا باقی ہے۔

چھپن چھپائی کیسی فلم ہے؟



فلم چھپن چھپائی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ فلم کو دیکھنے کی وجہ اس کو بنانے والے لوگ تھے جو کہ زیادہ ترنئے ہیں یا زیادہ پرانے نہیں ہیں۔ ہدایتکار محسن علی کی بطور ہدایتکار یہ پہلی فلم ہے جو اس سے پہلے ایک فلم کی کہانی لکھ چکے ہیں۔ فلم چھپن چھپائی کے مصنف بھی وہ خود ہیں۔ کہانی نئی تو نہیں کہہ سکتے، ایک تامل فلم بھی بلکل اسی کہانی کے ساتھ بن چکی ہے اور یہ فلم بقول محسن علی کے بھی نوجوان نسل کے لیے بنائی گئی ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک مزاحیہ انداز کی فلم ہے جس کی کہانی پانچ کرداروں کے گرد گھومتی ہے جس میں بیروزگاری جیسے موضوع کو ہلکے پھلکے انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے سو فلم کی کہانی کو اچھا کہا جا سکتا ہے۔
فلم کی ہدایتکاری جیسا کہ بیان کیا کہ محسن علی کی پہلی فلم ہے مگر اس بات کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا کہ چلو پہلی فلم ہے خیر ہے۔۔ایسا نہیں ہے جو فلم دیھکنے آتا ہے وہ یہ مارجن دینے کو تیار نہیں ہوتا ،یہ ہدایتکار ہو سکتا ہے آگے چل کر اچھی فلمیں بنائے گا بلکہ ہمارے ہاں تو فلم بین فلم ہدایتکار کی اہمیت اور کردار کو سمجھتا ہو یا نہ یہ ضرور توقع رکھتا ہے کہ فلم اچھی ہونی چاہیئے۔ اس فلم کو کہانی کے لحاظ سے ٹریٹ نہیں کیا گیا ۔ کہیں کہیں لگا جیسے بہت جلدی میں بنائی گئی ہے مزاحیہ فلم میں بھی ڈائیلاگ بولنے کی ٹائمنگ اتنی ہی اہم ہے یا زیادہ اہم ہے جتنی کسی سنجیدہ فلم میں لیکن کئی مکالمے اتنی تیزی سے ادا کئے گئے کہ سننے والے کو بڑی غور و فکر کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہاں ہنسنا تھا۔ مثال کے طور پر ہاتھ آگے باندھنے تھے یا پیچھے والے مکالمے اور احسن خان جس کو کہتا ہے کہ معاف کرو کھلے پیسے نہیں ہیں اور وہی کردار جب ہوٹل میں احسن خان کو دوبارہ دیکھتا ہے وہاں صورتحال مزاحیہ دکھا نے کی کوشش کی گئی مگر ہدایتکار کے ساتھ ساتھ اداکار بھی نئے تھے سو وہ منجھے ہوئے اداکاروں کی طرح ٹائمنگ کا خیال نہیں رکھ پائے۔
اسی طرح فلم میں ان پانچ کرداروں کے علاوہ باقی کرداروں کا آنا پولیس والا چوہدری کا کردار گو کہ اسکی اسکرین پر موجودگی اگر تو فلم کے موڈ کے حساب سے دیکھا جائے اسکو مزاح میں اضافہ کرنا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا اور اگر اس کردار کو فلم میں سنجیدگی کے لیے رکھا تھا تو بھی اس کردار نے بوریت میں اضافہ کیا ۔ کیونکہ خود تو وہ سنجیدہ تھا مگر جن کرداروں سے وہ ڈیل کر رہا تھا وہ مزاحیہ تھے تو عجیب کھچڑی سی بن گئی تھی۔ اسی طرح نیلم منیر کے کردار کو ایسا دکھایا گیا کہ وہ پری ہوتی ہے اور صرف ہیرو کونظر آتی ہے ہیرو کے ساتھ بیٹھے باقی کرداروں کو دکھائی نہیں دیتی ۔مگر پہلے گانے میں سمندر پر اسی پری کے ہاتھ سے ہیرو نہیں بلکہ کسی دوسرے کردار کو کچھ کھاتے بھی دکھایا گیا تو ایک دم ایک نظر نہ آنے والا کردار نظر کیسے آنا شروع ہوگیا۔ اور آخری سین میں جب نیلم دوبارہ زندہ ہو کر آجاتی ہے تب بھی اسکو سارے کردار دیکھتے ہیں اگر وہ صورتحال مزاحیہ تھی تو پہلے وہ کردار سب کو کھائی کیوں نہیں دیتا۔
فلم میں احسن خان اور نیلم منیر نے اچھی اداکاری کی۔ نیلم کی بڑی اسکرین پر پہلی پرفارمنس تھی ۔ایک دو جگہ زبردستی کی اداکاری لگی البتہ علی رضوی خواجہ عدنان اور باقی دونوں نئے کرداروں نے اچھاکام کیا۔ پانچ کرداروں کی آپس کی کیمسڑی بھی اچھی نظر آئی ۔ طلعت حسین، سکینہ سموں اور جاوید شیخ نے مختصر کردار اچھے نبھائے۔ فلم کا میوزک اچھا ہے اور چار گانوں میں سے کوئی بھی بھرتی کا گانا نہیں ،صدقے والے گانے کی لوکیشن اور کیمرہ ورک قابل تعریف ہے۔
اس فلم کو مزید اچھا کیا جا سکتا تھا ۔ فلم بنانے والوں سے گذارش ہے کہ اب لوگ اگر پاکستانی فلمیں دیکھنے آرہے ہیں تو انھیں معیاری فلمیں ہی دکھائی جائیں کیونکہ اگر فلم بین آنا چھوڑ دیں تو جتنا مرضی زور لگا لیں وہ واپس نہیں آتے۔ زیادہ توجہ کے ساتھ فلم بنائی جائے تو لوگ خوش بھی ہوں گے اور فلم کامیاب بھی ہو گی۔اس فلم کو دس میں سے پانچ نمبرز یا پانچ سٹارز میں سے ڈھائی سٹارز دیے جاسکتے ہیں ۔
بشکریہ سماء


Saturday, August 30, 2014

Bachon Ke Zaheen Banane Ka Tariqa


Bachon Main Safai Ki Aadat


Women's Ki Sab Se bari Khoobi


Chand Raat Gher Per Rahain


Chiken Ke Faide


Qaber Main Insan Ke Sathi


Friday, August 29, 2014

Amazing Reaserch About Blood Groups


Ansoo Gunah Mitate Hain


Azan Ke Waqat Dua Qabool Hoti Hai


Jahanam Ki Aag


Sehat Mand Rehne Ke 3 Asool


Ilm Hasil Karo


Nimaz e Fajr ki 2 Sunnat


Aanton Ki Safai


Wednesday, August 27, 2014

Annar Qudrat Ka Khoobsoorat Tohfa


Alkaline And Acidic Foods


Do You Know ?


© 2014 101 Ways For Happy Life. WP WELL WISHES converted by Bloggertheme9. Powered by Blogger.