قصور: زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل ہونے والی 8 سالہ کمسن زینب کا مبینہ قاتل گرفتار کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق قصور میں 8 سالہ بچی زینب کے قتل کا مرکزی ملزم عمران گرفتارکرلیا گیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والے شخص کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے۔ ملزم قصورمیں ہونے والے ہنگاموں کے دوران ہی پہلے پاک پتن فرار ہوا جس کے بعد وہ عارف والا چلا گیا تھا جبکہ اس نے اپنی داڑھی بھی منڈھوا لی تھی۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار ملزم نے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہےجوزینب کا پڑوسی ہے اورکورٹ روڈ کا رہائشی ہے۔ اس سے قبل بھی ملزم کو پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ قصورمیں 8 سالہ بچی زینب کو اغوا اورزیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے قتل کردیا گیا تھا، بچی کی لاش کچرا کنڈی سے ملی تھی جس کے بعد ملک بھرمیں زینب کے اہل خانہ کوانصاف کی فراہمی کے لیے احتجاج کیا گیا تھا۔
ملزم کو کچھ روز پہلے ہی پاکپتن سے حراست میں لیا گیا تھا۔ اب ملزم کی شناختی کارڈ پر درج تفصیلات بھی منظر عام پر آگئی ہیں۔ شناختی کارڈ کے مطابق ملزم کا نام عمران علی ولد ارشد ہے جس کا شناختی کارڈ نمبر 3510274598347 ہے ۔ ملزم محلہ روڈ کوٹ قصور کا رہائشی ہے اور زینب کے گھر کے قریب ہی رہتا ہے۔ ملزم کی ایک تصویر بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں اس نے سر پر پگڑی پہن کر تصویر بنوائی ہوئی ہے۔





0 comments: